وہ مجھ سے دور رہنے والامیرا
مراز اب بھیqہے
یہ تم ہو جو اس تعلق پر پریشان ہو
مگر اس بے لوث رشتے پے مجھے تو ناز
اب بھی ہے
اے کاش تجھے ایسا اک زخم جدائی دوں
جب تکلیف کوئی ہو تجھ کو تو میں دکھائی دوں
ہاں میں نے تجھے چاہا انکار نہیں مجھے
یہ جرم تو ثابت ہے کیا اس کی صفائی دوں
جس روز کبھی تیرا دیدار نہ ہو پائے
میں اپنی ہی آنکھوں کو نابینا دکھائی دوں
مغرور ہے تو کتنا صرف اک صنم بن کر
تو چاہے تو میں تجھکو تن من کی خدائی دوں
تجھ سا کوئی دل والا محسوس کرے مجھ کو
میں گیت نہیں ایسا جو سب کو سنائی دوں
وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو
ہم نہ جائیں تو کیا تماشا ہو
یہ کناروں سے کھیلنے والے
ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو
بندہ پرور جو ہم پے گزری ہے
ہم بتائیں تو کیا تماشا ہو
آج ہم بھی تیری وفائوں پر
مسکرائیں تو کیا تماشا ہو
تیری صورت جو اتفاق سے ہم
بھول جائیں تو کیا تماشا ہو
وقت کی چند ساعتیں ساگر
لوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو
تیری یاد سے رشتہ کل بھی تھا
تیری یاد سے رشتہ آج بھی ہے
دل اپنا دکھتا کل بھی تھا
اور افسردہ سا آج بھی ہے
وہ دوستی کا احساس جو ہم میں تھا
وہ احساس آج بھی ہے
کبھی وقت ملے تو چلے آنا
کھلا دل کا دروازہ آج بھی ہے